کشمیری پنڈت پروفیسر نے گھگیا گھگیا کر اپنے گلے سے کچھ آواز میں برآمد کر کے حسب توفیق داد دی۔
جانتے ہو خانم کی گالی کتنی طویل تھی ؟“ آغا صاحب نے ڈانٹ کر پوچھا۔
پنڈت صاحب خوشامدانہ حیرت و استعجاب سے جبڑے لٹکا کر بیٹھ گئے
خانم کی گالی ڈیڑھ منٹ دراز تھی۔ پوری ڈیڑھ منٹ ۔ “ آغا صاحب نے اعلان فرمایا۔
پنڈت جی ایک بار پھر تازہ حقے کی طرح گزر گڑائے اور آغا صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فن دشنام طرازی کے حق میں ایک عالمانہ تقریر جھاڑنے کے لیے پر تولنے لگے، لیکن ڈرائیور نے انہیں مہلت نہ دی۔
اودھم پور آگیا اور بس لاریوں کے اڈے پر جاڑ کی۔
او ھم پور کے اڈے پر بڑی ریل پیل تھی۔ بس رکھتے ہی پولیس کے کچھ سپاہیوں نے اسے گھیرے میں لے لیا
اور یہ خوشخبری سنائی کہ سرینگر میں ہیضہ کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اس لیے انا کولیشن سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر کوئی شخص آگے سفر نہیں کر سکتا۔
اودھم پور کی فرض شناس موسائی نے ان کو لیش کا بندوبست بھی اپنے ہی پر پر ہی کر رکھا تھا۔