دادی اماں ۔۔۔ یہ دیکھیں ۔۔۔ زین نے فورا دادی کا ہاتھ تھام کر ماتھے سے لگایا ۔ ۔ گرم ہے نا دادی اماں ۔ ۔ پیٹ بھی درد کررہا
مجھے آج سکول نا بیجیں۔۔
سعدیہ تم لوگ جاؤ۔۔۔ آج کا دن چھٹی کرلے گا زین تو سکول نہیں جائے گا۔۔۔ مجھے بھی اس کا سارا پنڈا گرم لگ رہا ہے ۔۔
یخنی پلا دیتی ہوں اسے بنا کے۔۔۔ کل چلا جائے گا۔۔
تم جاؤ جا کراپنےبچوں کا ایڈمیشن کروا کے آؤ ۔۔۔
دادی نے سادہ لہجے میں میں دوٹوک کہا لیکن سعدیہ کو بھالے کی ماند لگا۔۔۔ وہ زین کو نظروں سے گھورتی صوفے پر پڑا شولڈر بیگ اور اپنی چادر
اٹھاتی باہر نکل گئیں ۔۔۔