تم امیر لوگوں کو اپنے ممی ڈیڈی سے بڑی
فیشنی سی شکایتیں ہوتی ہیں۔ ہمیں وقت نہیں
دیتے ، ملازموں پر چھوڑ دیا، مل کر ڈنر نہیں کرتے ،حال نہیں پوچھتے ، ہونہہ! ہم سے پوچھو، شکایت کسے
کہتے ہیں۔ میرے باپ نے میری یونیورسٹی کی فیس
دینے سے صاف منع کر دیا تھا۔ مانگ تانگ کر کیسے
فیس بھری ہے، میں ہی جانتی ہوں۔"
سب کی اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں تمہاری
ضرورت فیس ، میری ضرورت توجہ “
تمہارا پرس ڈالروں سے بھرا رہتا ہے توجہ کی
پروا کیوں کرتی ہو۔"
Read Complete Novel Here